گری اے آر بی ایس نمائش میں

سڈنی، آسٹریلیا، 9 مئی 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– 8 مئی کو آسٹریلیا کے بین الاقوامی ایئرکنڈیشننگ، ریفریجریشن اور بلڈنگ سروسز تجارتی نمائش دی اے آر بی ایس 2018ء کا سڈنی میں آغاز ہوا تھا۔ ایئر کنڈیشننگ، ریفریجریشن اور ہواداری کے لیے جنوبی نصف کرّے کی اہم ترین نمائش کی حیثیت سے اے آر بی ایس 2018ء نے صنعت کے کئی معروف اداروں کو جمع کیا، مزید غیر ملکی صارفین کو “ساختہ چین” کے بارے میں جاننے اور سمجھنے اور چین کی بنی ہوئی مصنوعات کو استعمال کرنا اور پسند کرنے کا اچھا موقع فراہم کیا۔

توانائی بچت اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی نمائش

آسٹریلیا میں موسم عموماً سال بھر گرم رہتا ہے اس لیے ایئر کنڈیشننگ آلات کسی بھی عمارت کا اہم ترین حصہ ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں عالمی توانائی بحران میں اضافے کے ساتھ آسٹریلوی حکومت طویل المیعاد توانائی حلوں کی تلاش اور توانائی بچت کرنے والی عمارتوں اور ایئر کنڈیشنرز کی ترویج کے لیے کوشاں ہے۔ اس مرتبہ گری الیکٹرک اپلائنسز انکارپوریٹڈ از چوہائی نے اپنے ماحول دوست ایئرکنڈیشنر نمائش میں پیش کیے اور آسٹریلوی مارکیٹ کے لیے نئے ایئر کنڈیشننگ حل فراہم کر رہا ہے۔

ہائپر اس مرتبہ نمائش کے لیے گری کی پیش کی مصنوعات میں سے ایک تھا۔ یہ غیر ملکی مارکیٹوں کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا یونٹ ہے۔ یہ نہ صرف توانائی مؤثریت میں زبردست ہے، بلکہ 3ڈی انورٹر ٹیکنالوجی (انورٹر کمپریسر + انورٹر آؤٹ ڈور یونٹ + انورٹر ان ڈور یونٹ) کے ذریعے 70 فیصد توانائی کی بچت کرنے کے بھی قابل ہے۔ یہ پروڈکٹ 8 درجہ سینٹی گریڈ ہیٹنگ فنکشن کے ساتھ ڈیزائن کی گئی ہے جو کمرے کے درجہ حرارت کو 8 درجہ سینٹی گریڈ پر برقرار رکھ سکتی ہے یہاں تک کہ جب کمرے میں کوئی نہ ہو تب بھی۔ مزید برآں، یہ درجہ حرارت پر قابو پانے کے لیے 0.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی درستگی حاصل کر سکتی ہے اور کثیر المرحلہ صحت مند فلٹریشن، خود صفائی کی صلاحیت، مقام کی بنیاد پر خشک کرنے کا کام، وائی-فائی کنٹرول اور انتہائی خاموشی سے کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، جس نے دیکھنے والوں کی بہت تعریف سیمٹی۔

ماحول دوست شعبے میں نئی پسند کے طور پر فوٹووولٹیک ایئر کنڈیشنر اپنی بے مثال برتریوں کی وجہ سے کئی ممالک میں مقبول ہو رہے ہیں۔ گری نے بھی اپنا پی وی ایئر کنڈیشنر پیش کیا جو حقوق ملکیت دانش سے آزاد ہو کر بنایا گیا ہے۔ پی وی پاور صاف اور قابل تجدید توانائی کی ایک قسم ہے، ایئر کنڈیشنر کے ساتھ اس کا ملاپ توانائی کی بڑی کھپت کے مسئلے کو حل کرے گا۔ گری کے پی وی ایئر کنڈیشنر نہ صرف “صفر الیکٹریسٹی چارج” حاصل کر سکتے ہیں بلکہ بجلی کی پیداوار، کھپت، ذخیرہ کاری اور انتظام کا بھی نیا طریقہ بھی ہیں۔ اب تک گری 22 ممالک کے لیے 5,500 پی وی مصنوعات فراہم کر چکا ہے، اور دنیا بھر میں توانائی بچت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

2014ء میں گری نے کامیابی کے ساتھ اپنے مکمل حقوق ملکیت دانش کے ساتھ مقناطیسی بیئرنگ سینٹری فیوگل چلر تیار کیا تھا، جس نے اسے دنیا کا دوسرا ادارہ بنایا جو مقناطیسی بیئرنگ کمپریسر ٹیکنالوجی کا مالک ہے۔ گری اس ٹیکنالوجیکل کامیابی کو اے آر بی ایس 2018ء میں پیش کرتا ہے۔ مقناطیسی بیئرنگ تیز رفتار، تیل سے آزاد اور مستحکم آپریشن کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے وہ بھی میکانیکل ناکامی کے بغیر جو بعد از فروخت مرمت کے اخراجات کو کافی کم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ یونٹ اچانک بجلی بند ہونے کے مقابلے میں تحفظ کی ٹیکنالوجی  بھی رکھتا ہے تاکہ ایسی کسی بھی صورت میں مقناطیسی سسپینڈنگ بیئرنگ محفوظ اور آرام دہ طور پر اترے۔ یہ دنیا میں سب سے بڑا واحد یونٹ کولنگ گنجائش رکھنے والا ہے، جو 1,000 آر ٹی ہے۔ اس کا سی او پی 7.19 ہے، اور آئی پی ایل وی 12.06 ہے، جو دونوں صنعت میں بلند ترین ہیں۔

“ساختہ چین” دنیا بھر میں

“کئی سالوں سے ادارے نے گری کو دنیا کا معروف ترین برانڈ بنانے سے وابستہ کر رکھا ہے اور معروف ٹیکنالوجیز کے ساتھ مصنوعات میں جدت طرازی سے وابستہ ہے۔” جناب اوون لی، اسسٹنٹ جنرل مینیجر گری اوورسیز سیلز کمپنی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا۔ درحقیقت، گری کی بین الاقوامی مارکیٹ میں ترقی نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ اس کے ملکیتی برانڈز 160 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں پھیل چکے ہیں۔ برے ماحولیاتی حالات یا خصوصی موسمی صورتوں کے حامل چند مقامات پر گری نے اپنے شاندار مصنوعاتی معیار کی بدولت صارفین کا اعتماد حاصل کیا۔ مشرق وسطیٰ میں اس کا مارکیٹ حصہ بلندی پر جا رہا ہے۔

اپنی “معروف عالمی” اور آزاد مرکزی ٹیکنالوجیوں کے ساتھ گری امریکا میں فینکس مارٹ کا منصوبہ حاصل کرچکا ہے جس کا مطلب ہے کہ چین کی بنی ہوئی مصنوعات دنیا کی سب سے بڑی پی وی ایئر کنڈیشنر بیس پر تشکیل دی جائیں گی۔ یہی نہیں بلکہ گری نے کئی بڑے اور اہم غیر ملکی منصوبے حاصل کیے ہیں، جن میں پاکستان میں گوادر پورٹ بھی شامل ہے، جو “بیلٹ اینڈ روڈ” کا مرکزی حصہ ہے اور ساتھ ہی پانچ قومی توانائی تزویراتی چینلوں میں سے ایک بھی ہے، مزید یہ کہ بیلو مونتے، برازیل اور چین-لاؤس ریلوے پروجیکٹ میں چین کا پہلا بین الاقوامی اضافی-ہائی وولٹیج پروجیکٹ، ینگون، برما میں کنتایا سینٹر لینڈمارک میں کا منصوبہ، عمان میں سب سے بڑے تجارتی کمپلیکس نوراس، ویت نام میں دنیا کی سب سے بڑی لانژے کمپنی ریگینا کے منصوبے، پرتھ، آسٹریلیا میں پرتعیش رہائشی عمارت کے منصوبے، مشرقی تیمور میں بڑے چین اسٹور منصوبے اور جکارتہ، انڈونیشیا میں سدرمان سوٹ کی بڑی دفتری عمارت بھی شامل ہیں۔

گری “ساختہ چین، پسند پوری دنیا کی” کے ‏عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

ذریعہ: گری الیکٹرک اپلائنسز انکارپوریٹڈ از چوہائی

تصویری اٹیچمنٹس کے لنکس:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=311925

   

Related Posts