کھلتے ہوئے پیونی گانسو لنسیا کی معیشت کو آگے بڑھاتے ہوئے

لنسیا، چین، 29 مئی 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– جیسے ایک نظم ختم ہوتی ہے، اپریل میں عام پھول مرجھا گئے، پہاڑوں پر پیونی پھول اپنے مکمل جوبن پر ہیں۔ مئی میں مختلف پہاڑی پیونی گانسو صوبے کے لنسیا ہوئی خودمختار علاقے میں کھل رہے ہیں۔ دو سال کی کوششوں کے بعد گانسو ہوئی خود مختار علاقے کا دورۂ پیونی حقیقت کا روپ دھارنا شروع ہوا۔ یہ مئی لنسیا کا پہلا “ماہ پیونی” ہے۔  رنگین پہاڑی پیونی لنسیا میں شاہراہ بنہی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جو سڑک کو 60 میل طویل ایک پیونی کی سیر گاہ بنا رہے ہیں۔ لنسیا شعبہ سیاحت کے ابتدائی اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ لنسیا نے یکم مئی سے 24 مئی تک تقریباً 2 ملین مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ باغ کے گرد چہل قدمی کرتے ہوئے اس قدیم نظم کے سحر کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے کہ جو کہتی ہے “ہوانگ سی نیانگ کا گھر پھولوں سے بھرا ہوا ہے جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔”

پیونی میں کئی خوبیاں ہیں۔ اس کی جڑیں اور چھال دوا کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔ پہاڑی پیونی چوبی تیل کی اچھی فصل بھی ہے جسے صاف کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، پیونی کے بقچۂ گل اور نر حصے، پنکھڑیاں اور غنچۂ برگ یہ سب چائے بنا سکتے ہیں۔

وانگپنگ گاؤں لنسیا میں واقع واحد غریب پہاڑی گاؤں ہے۔ یہ گاؤں اب 170 مو سے زیادہ پیونی کاشت کرتا ہے اور “ہیچو میں پہلے پیونی گاؤں” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 2013ء میں گاؤں کے 252 میں سے 172 گھرانے غریب خاندان تھے، لیکن 2017ء کے آخر میں یہ تعداد گھٹ کر چھ رہ گئی تھی۔ اب گاؤں پیونی کاشت کاری و تیل کا اشتراک تشکیل دے چکا ہے۔ گاؤں کے حساب کے مطابق گندم کاشت کرنے سے کم پیسے بنتے ہیں، لیکن پیونی کے بیج لگانا، 5 سال کے واحد چکر کے ساتھ، محنت بچاتا ہے اور کاشت کاروں کو فی مو 100,000 یوآن سے زیادہ دے سکتا ہے۔

ہی شینگہونگ، جو لنسیا کے “پیونی بادشاہ” کے طور پر بھی معروف ہیں، وانگپنگ گاؤں میں پیونی صنعت کے بانی ہیں۔ وہ نہ صرف کاشت کاری کے لیے زمین کو تقسیم کرتے ہیں، بلکہ پیونی چائے کی مصنوعات اور پیونی الکحل بھی بناتے ہیں۔ پیونی کے نر حصے کی چائے گرامز کے حساب سے فروخت ہوتی ہے، جو فی 500 گرامز تقریباً 10,000 یوآں تک فروخت ہو سکتی ہے۔ شمال مغرب میں غربت کا خاتمہ پہاڑی پیونی جیسا ہے، جو دیر سے کھلتا ہے لیکن ایک روزیہ کھلے گا ضرور، انہوں نے کہا۔

ذریعہ: لنسیا شعبہ سیاحت

تصویری اٹیچمنٹس کے لنکس:

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=313135
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=313136

   

Related Posts