چین کی اعلی  ترین جامعہ کی جدت طرازی بین الاقوامی کیمپس کاآغاز

ہانگچو، چین، 20 نومبر 2017ء/سنہوا-ایشیانیٹ

21 اکتوبر 2017ء کو زی جیانگ یونیورسٹی انٹرنیشنل کیمپس کا باضابطہ آغاز ہوا۔ تقریباً ایک سال قبل امریکن اکیڈمی آف انجینیئرنگ کے فیلو پروفیسر فلپ ٹی کرین چین میں زی جیانگ یونیورسٹی (زیڈ جے یو) آئے تھے۔ “مشرقی کیمبرج” کی شہرت رکھنے والی اس جامعہ میں انہوں نے زی جیانگ یونیورسٹی/یونیورسٹی آف الینوائے اربانا-شیمپین انسٹیٹیوٹ (زیڈ جے یو-یو آئی یو سی انسٹیٹیوٹ) کے کل وقتی ڈین کا نیا خطاب حاصل کیا۔

مشترکہ ادارہ زیڈ جے یو کے ہائننگ انٹرنیشنل کیمپس میں قائم کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تعلیم کے نئے نمونے کی حیثیت سے انسٹیٹیوٹ یو آئی یو سی ، اور زیڈ جے یو کے اتنے  اعلی نصاب تعلیم اور وسائل کے ذریعے عالمی معیار کی انجینئرنگ تعلیم فراہم کر ےگا۔ دریائے یانگزے کے ڈیلٹائی خطے کے مرکزی علاقے میں خلیج ہانگچو میں واقع انٹرنیشنل کیمپس تقریباً80 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، زیڈ جے یو-امپیریئل جوائنٹ لیب فار اپلائیڈ ڈیٹا سائنس اور زیڈ جے یو-یو او ای (یونیورسٹی آف ایڈنبرا) انسٹیٹیوٹ قائم ہے۔ خلیج ہانگچو کے علاقے کو اقتصادی جدّت طرازی کا محرّک بنانے کے چینی حکومت کی پرعزم منصوبہ بندی کے ساتھ، یا سان فرانسسکو خلیج کے علاقے کے چینی ورژن کی تیاری کے لیے، اس نئے زیڈ جے یو کیمپس کی طرف کافی توجہ دی گئی ہے۔

“انٹرنیشنل کیمپس کی تعمیر زی جیانگ یونیورسٹی کو بین الاقوامی سطح پر ایک اور کامیابی ہے۔ پروفیسر سونگ یونگ ہوا، ایگزیکٹو نائب صدر زیڈ جے یو اور بانی ڈین انٹرنیشنل کیمپس نے کہا۔ بین الاقوامی حیثیت کے کرنے والے اسکول چلانے کی مشق کے کئی سالوں کے بعد زیڈ جے یو نے 2013ء میں ایک 4ایس گلوبل اسٹریٹجی”  بنائي جو ممتاز اور موثر ہے، جنہیں “تزویراتی”، “جوہری”، “تحفظ پذیر” اور “خدمت رخی” کے نام دیے گئے۔ چین میں نئے قاعدے کی بنیاد پر، ‘4جی گلوبل اسٹریٹجی’ زیڈ جے یو کی بین الاقوامیت کے لیے نظری و عملی ڈھانچہ قائم کرتی ہے، جبکہ عالمی معیار کی موجودہ جامعات کی اچھی مشقوں کو بھی ترتیب دے رہی ہے۔” سونگ نے کہا۔

زیڈ جے یو بین الاقوامیت کی سمت اختیار کرنے والی چین کی سرفہرست جامعات میں شامل ہے۔ حالیہ چند سالوں میں “سائنس اور تعلیم کے ذریعے ملک کی تجدید” اور “باصلاحیت افراد کے ساتھ ملک کو مضبوط کرنے” کی قومی حکمت عملیوں کے نفاذ کے ساتھ، چین کی اعلیٰ تعلیم نےآزادی اور ترقی کے نئے نمونے کو ظاہر کیا اور “ڈبل فرسٹ کلاس انیشی ایٹو” کے ذریعے تازہ ترین حکومتی مدد کے ساتھ عالمی اعلیٰ تعلیم میں مر کز  کی  جانب گامزن ہے۔

چین بیرون ملکی تعلیم کے لیے طلبہ کی بڑی تعداد برآمد کررہا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی طالب علم چینی اداروں میں درجہ سوم کی تعلیم کے خواہشمند ہیں، جو انسانی وسائل کی ترقی میں بین الاقوامیت کی زیادہ بلند سطح کی جانب رہنمائی کررہی ہے۔ 2016ء بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے چینی طالب علموں کی تعداد 545,000 تک پہنچی، جو 180 ممالک اور خطوں کا احاطہ کر رہے ہیں اور چین غیر ملکی طلبہ کے سب سے بڑے برآمد کنندہ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اسی سال 443,000 غیر ملکی تعلیم چین میں علم حاصل کر رہے تھے، جو اسے ایشیا میں نمبر ایک مقام بنا رہے ہیں۔ مزید برآں، چین غیر ملکی باصلاحیت افراد کے لیے ایک مضبوط “مقناطیسی اثر”  ظاہر کر رہا ہے، جو 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد بیرون ملک تعلیم حاصل کرکے وطن لوٹنے والے چینی طالب علموں کی سب سے بڑی لہر کو ظاہرکررہا ہے۔ 2016ء کے اختتام تک چین واپس لوٹنے والے طالب علموں کی کل تعداد 2.65 ملین سے بڑھ چکی تھی۔

1897ء میں قائم ہونے والا زیڈ جے یو چینیوں کی جانب  سے قائم کردہ اعلیٰ تعلیم کے اوّلین جدید اداروں میں سے ایک ہے۔ 120 سال کی ترقی سے یہ چین میں سرفہرست جامعات میں سے ایک بن چکا ہے۔ اسینشل سائنس انڈیکیٹر (ای ایس آئی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، نومبر 2017ء میں، زیڈ جے یو 18 شعبوں میں سرفہرست 1 فیصد میں شمار ہوتی ہے اور 5 شعبوں میں عالمی تعلیمی اداروں میں سرفہرست 50 میں شامل تھی، جو اسے چین کے دیگر اداروں  جن کی کارکر دگی ي بہترین ہے۔

چینی و بین الاقوامی جامعات کے ساتھ مزید تعاون کے ذریعے چین اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اکٹھا کر رہا ہے۔ 2016ءکے اختتام تک چین 188 ممالک اور خطوں کے ساتھ تعلیمی تعاون اور تبادلے کے تعلقات قائم کرچکا ہے، جس نے 46 بین الاقوامی انجمنوں کے ساتھ تعلیمی تعاون اور تبادلہ  کیا، اور 47 ممالک اور خطوں کے ساتھ تعلیمی اسناد کی باہمی تسلیم شدگی کے معاہدے کیے۔ 2,480 چین-بین الاقوامی تعاون- سے چلنے والے ادارے اور منصوبے موجود ہیں جن کی منظوری وزارت تعلیم، چین دے چکی ہے۔

ستمبر 2017ء کے تک زیڈ جے یو پانچ براعظموں کے 34 ممالک کی 170 جامعات یا تعلیمی اداروں کے ساتھ مختلف سطح کے تعاون کرچکی ہے۔ 2016ء میں 4,800 سے زیادہ طلبہ نے بین الاقوامی تبادلے میں حصہ لیا اور 3,400 سے زیادہ ڈگری طلبہ اس کی کیمپس کی جانب متوجہ ہوئے۔

چینی جامعات کی بین الاقوامیت پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر کرین نے کہا کہ عالمگیریت کے پس منظر میں انسانیت کو زیادہ سے زیادہ یکساں چیلنجز کا سامنا ہے؛ دریں اثناء، عالمگیریت اعلیٰ تعلیم میں ہمیں غیر معمولی مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ بین الثقافتی اور بین العلاقائی تعاون کے ذریعے طلبہ تحقیق و جدت طرازی کی صلاحیت کو بڑھانے کے زیادہ مواقع پائیں گے، اور مستقبل میں رہنمائی کرنے والے تخلیقی باصلاحیت افراد بنیں گے اور اقتصادی نمو اور سماجی ترقی کے لیے بہتر خدمات انجام دیں گے۔

ذریعہ: زی جیانگ یونیورسٹی (زیڈ جے یو)

تصویری منسلکات کے روابط:

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=301208

 

 

 

   

Related Posts